اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نیبنزیا نے روسی ٹی وی چینل ’’ویستی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کا ایسا راستہ تلاش نہیں کر پا رہا جس میں اسے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا سامنا نہ ہو، کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے اعلان کیے گئے متعدد اہداف تاحال حاصل نہیں ہوسکے۔
روسی سفارتکار کے مطابق ایران امریکہ کے لیے ایک انتہائی مشکل حریف ثابت ہوا ہے، جو بڑی طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنے اور سنجیدہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیبنزیا نے کہا کہ ایران کے خلاف موجودہ محاذ آرائی امریکہ کے لیے دنیا کے دیگر علاقوں میں ماضی کی بعض فوجی مہمات کی طرح آسان ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا:’’ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت نہیں جانتی کہ اپنی ساکھ کھوئے بغیر اس تنازع سے کیسے باہر نکلا جائے، کیونکہ جو اہداف اعلان کیے گئے تھے، وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔
روسی نمائندے کے مطابق موجودہ صورتحال نے واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک اس بات پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ جوابی حملوں کا ہدف بن رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائل ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی سرزمین تک پہنچ رہے ہیں۔
نیبنزیا نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک کے حکام اب کھلے عام امریکہ کی صلاحیتوں سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں امریکی مدد پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔
ان کے مطابق خلیجی عرب ممالک اور واشنگٹن کے دیگر علاقائی اتحادی اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا امریکہ ان کی فضائی حدود کے لیے وہ ’’سیکیورٹی چھتری‘‘ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
روسی سفارتکار کے اس بیان سے قبل امریکی جریدے ٹائم نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازع کے بعد خلیجی ممالک واشنگٹن کی سیکیورٹی ضمانتوں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ٹائم کے مطابق خطے کے ممالک اس بات پر حیران تھے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تنازع میں داخل ہوا، تاہم بعد میں اس کے پیدا ہونے والے اثرات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی اہداف بار بار تبدیل ہوتے رہے اور واشنگٹن کی جانب سے تنازع سے جلد نکلنے کی کوششوں نے بعض عرب خلیجی ممالک میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ بغیر پیشگی اطلاع، مشاورت اور بالخصوص مناسب تحفظ کے اس تنازع میں گھسیٹ لیے گئے ہیں۔
ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں خطے کے متعدد ممالک نے ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے کشیدگی پر قابو پانے اور تناؤ کم کرنے کی اپنی سابقہ پالیسی پر دوبارہ توجہ مرکوز کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ قطر اور عمان نے جلد از جلد امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ پر دباؤ بڑھایا، جبکہ کویت اور بحرین نے ابتدا میں جنگ جاری رکھنے کی حمایت کی، تاہم بعد میں انہوں نے بھی خطے کے دیگر ممالک کے مؤقف کی حمایت شروع کردی۔
آپ کا تبصرہ